Friday, December 9, 2011

In a PIL, one Jawaid Rahmani had sought the court's direction to the Centre to sack Bhat because he was overage, and faced a CBI probe for disproportionate assets:The Indian Express Delhi


Ruling on a petition seeking his removal,a Division Bench of Acting Chief Justice A K Sikri and Justice Rajiv Sahai Endlaw held that Bhat could not head NCPUL because he was overage and faced a corruption case.

دہلی ہائی کورٹ نے حمید الله بھٹ کو قومی اردو کونسل سے ہٹانے کا حکم دیا 
یہ انصاف کی اور اردو کی جیت ہے صرف میری یا جاوید رحمانی کی نہیں  :پروفیسر لطف الرحمان 
نئی  دہلی ،9 دسمبر  2011:قومی اردو کونسل کے موجودہ داغی ڈائریکٹر حمید الله بھٹ کو دہلی ہائی کورٹ نے اسکے عھدے سے ہٹانے کا حکم دیا اور کہا کہ اس عھدے پر وہ58 سال کی عمر تک ہی  رہ سکتا ہے واضح رہے کہ ابھی اسکی عمر 59 سال سے زیادہ ہے .اسی کے ساتھ دہلی ہائی کورٹ نے CBI کو بھی حکم دیا کہ اسکے خلاف بد عنوانی کا جو معاملہ اس نے درج کیا تھا  اس کی پوری چھان بین کرکے دس ہفتے کے اندر عدالت میں کلوزر رپورٹ  داخل کرے واضح رہے کہ ایچ بھٹ کو CBI نے2005 میں گرفتار کیا تھا مگر جب یہ2009 میں اسی عھدے پر دوبارہ بحال ہونے میں کامیاب ہو گیا تو اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھا کر اس نے وہ کیسسرد بستے میں ڈلوا دیا تھا .جسکی پھر سے با ضابطہ انکوائری کا عدالت عالیہ نے حکم دیا .اسی کے ساتھ اسکے خلاف وزارت براے فروغ انسانی وسائل میں بھی ایک انکوائری چل رہی تھی .اسکے بارے میں ہائی کورٹ نے وزارت سے کہا کہ دس ہفتے میں اس پر اپنی رپورٹ داخل کرے اور یہ بھی بتاے کہ اسکے خلاف کیا کاروائی کی گئی .ڈاکٹر ایچ بھٹ کے خلاف پروفیسر لطف الرحمان اور جناب جاوید رحمانی نے فروری2011 میں ایکPIL دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی تھی .جس میں اس کے پورے داغ داغ کیریئر کا حوالہ دیکر اسکو بر طرف کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا .جس پر جب دہلی ہائی کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کیا تو ملزم مسٹر ایچ بھٹ نے جناب جاوید رحمانی پر حملہ بھی کیا اور انھیں قومی اردو کونسل سے نکالنے کی کوشش بھی کی .اسکے باوجود بہر حال دہلی ہائی کورٹ میں اسPIL پرسماعتوں کا سلسلہ جاری رہا . 4 نومبر 2011 کی سماعت میں دہلی ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے سرکاری وکیل سے ایفی دوٹ مع آفس آرڈر داخل کرکے بتانے کو کہا تھا کہ جب ملزم ایچ بھٹ کی تقری کے آرڈر میں درج ہے کہ وہ ریٹائر 58 سال کی  عمر میں ہوگا تو وہ ابھی تک یہاں کیا کر رہا ہے ؟ اس سماعت میں سرکاری وکیل نے ایفی دوٹ تو داخل کیا تھا مگر کوئی ٹھوس قانونی جواز اسکی وہاں موجودگی کا نہیں پیش کر سکا اور نہ اسکا دفاع بد عنوانی کے معاملات میں کر پایا .اس ایفی دوٹ پر اسکے با وجود سرکاری وکیل اور جناب جاوید رحمانی کے وکیل شری ارجن حرکاولی (Arjun Harkauli)کے درمیان بحث ہوئی .جسکو سننے کے بعد ایکٹنگ چیف جسٹس جسٹس راجیو سہائے نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا جو آج دیا گیا جسکے تحت جسٹس راجیو سہائے نے مذکورہ بالا ہدایات وزارت براے فروغ انسانی وسائل ،حکومت ہند کو اور سی بی آئ (CBI)کو دیں .پروفیسر لطف الرحمان اور جناب جاوید رحمانی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ انصاف کی اور اردو کی جیت ہے جس سے اردو مخالف قوتوں کو سبق لینا چاہیے خواہ وہ اردو اداروں کے اندر ہوں یا باہر .پروفیسر لطف الرحمن نے یہ بھی کہا کہ یہ اردو کی سیاست کے ایک تاریک عھد کا خاتمہ ہے جسکا خیر مقدم ہمارے وزیر براے فروغ انسانی وسائل کپل سبل صاحب کو بھی کرنا چاہیے اور انھیں اس شخص کو ترنت معطل کرنے کے ساتھ ہی یہ عھد بھی کرنا چاہیے کہ آئندہ انکی موجودگی میں ایسے افراد اردو اداروں پر مسلط نہ ہونگے .

نوٹ :اس بارے میں مزید معلومات دہلی میں جناب جاوید رحمانی سے اس نمبر09210293686 پر اور پٹنہ میں پروفیسر لطف الرحمان سے اس نمبر09835064584 پر فون کرکے حاصل کی جا سکتی ہیں .
 سمیع الدین
 رابطہ عامہ سیل -

Sunday, November 20, 2011

Arguments heard. Order reserved.


 عدالت عالیہ کے ججوں نے بھٹ کی برطرفی سے متعلق بحث سن کر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا 
نئی  دہلی ،9 نومبر 2011: 4 نومبر 2011 کی سماعت میں دہلی ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے سرکاری وکیل سے ایفی دوٹ مع آفس آرڈر داخل کرکے بتانے کو کہا تھا کہ جب ملزم ایچ بھٹ کی تقری کے آرڈر میں درج ہے کہ وہ ریٹائر 58 سال کی  عمر میں ہوگا تو وہ ابھی تک یہاں کیا کر رہا ہے ؟ اس سماعت میں سرکاری وکیل نے ایفی دوٹ تو داخل کیا مگر کوئی آفس آرڈر اور قانونی دلیل نہیں پیش کر سکے .اسکے بعد سرکاری وکیل اور جناب جاوید رحمانی اور پروفیسر لطف الرحمن کے وکیل جناب ارجن ہرکولی کے درمیان زبردست بحث ہوئی جس کو ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے بغور سنا اور اپنا فیصلہ محفوظ رکھا جو یقین ہے کہ بہت جلد سنایا جائیگا اور ایچ بھٹ کو قومی اردو کونسل سے نکال باہر کیا جائیگا .  
http://delhihighcourt.nic.in/dhcqrydisp_o.asp?pn=236196&yr=2011

Saturday, November 5, 2011


حمید الله بھٹ کی برطرفی سے متعلق PIL کی سماعت کے دوران طویل بحث

اگلی سماعت 9 نومبر 2011 کو ،جج نے حکومت سے ایفی دیفٹ (Affidavit)داخل کرنے کو کہا
نئی دہلی :4 نومبر 2011 : حمید الله بھٹ کی برطرفی کے سوال پر داخل جناب جاوید رحمانی اور پروفیسر لطف الرحمن کی PIL پر آج سماعت ہوئی جس میں دونوں فریقین کے وکیلوں کے درمیان زبردست بحث ہوئی اور جج نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ جب حمید الله بھٹ کی تقرری کے آفس آرڈر میں صاف لکھا ہے کہ اس کا تقرر پانچ سال کیلئے کیا جاتا ہے یا اس وقت تک کیلئے جب تک اسکی عمر58 سال کی ہو جائے ،تو یہ ابھی تک قومی اردو کونسل میں کیوں ہے ؟تو سرکاری وکیل سے اسکا کوئی جواب نہ بن پڑا.چنانچہ دہلی  ہائی کورٹ کے ججوں کی دو رکنی بنچ نے سرکاری وکیل کو حکم دیا کہ اس بات کی وضاحت کیلئے ایفی دیفٹ داخل کریں اور اگلی سماعت 9 نومبر 2011 کو رکھی .واضح رہے کہ قومی اردو کونسل کے موجودہ ڈائریکٹر حمید الله بھٹ کے   خلاف یہ PIL جناب جاوید رحمانی اور پروفیسر لطف الرحمن نے دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی تھی جس پر 9 فروری 2011 کو کورٹ نے نوٹس جاری کیا جس کے بعد حمید الله بھٹ نے جناب جاوید رحمانی پر حملہ بھی کیا اور 12 فروری 2011 کو  فروغ اردو بھون میں دونوں کے درمیان زبردست ہاتھا پائی ہوئی ،جس کی رپورٹ بھی جناب جاوید رحمانی نے سریتا وہار پولیس اسٹیشن میں اسی دن درج کرا دی تھی .اس PIL میں انہوں نے حمید الله بھٹ کی اہلیت پر سوالیہ نشان قائم کیا اور کہا ہے کہ 1997 میں جب اسکو قومی اردو کونسل کا ڈائریکٹر بنایا گیا اس وقت بھی تعلیمی  اہلیت کے اعتبار سے یہ اس عہدے کا اہل نہیں تھا اور وزارت براے فروغ انسانی وسائل نے اس کا تقرر  بغیر کسی Recruitment Rules کے بھی کیا جو غیر آئینی ہے اور اس سے پہلے اس پر کشمیر یونیورسٹی اور جامعہ ہمدرد میں بد عنوانی کے الزامات لگ چکے تھے اور یہ ان جگہوں سے نکالا جا چکا تھا .اور 1995 میں اسکو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں OSD بنایا گیا تو بد عنوانی کے معاملے میں اس کی شہرت کا یہ عالم تھا کہ جامعہ کمیونٹی نے زبردست احتجاج کیا اور اسکو جوائن Join نہیں کرنے دیا گیا .ان سب حقائق کو نظر انداز کر کے وزارت براے فروغ انسانی وسائل کی سیلکشن کمیٹی نے شمس الرحمن فاروقی کی ایما پر قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر کے لئے بے غیر انٹرویو کے تین لوگوں کے ناموں کا پینل بنایا جس میں پہلا نام حمید الله بھٹ کا رکھا گیا اور دوسرا محمود ہاشمی (ڈپٹی  ڈائریکٹر آل انڈیا ریڈیو )کا اور تیسرا نوید مسعود (ڈائریکٹر ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن )کا .اس پینل میں موجود باقی دونوں لوگ اس پر علمی اعتبار سے بھی فوقیت رکھتے تھے اور ایڈمنسٹریٹو تجربے کے اعتبار سے بھی .مگر ان پر اس کو ترجیح دی گئی .اور پھر دو سال کے بعد بغیر Recruitment Rules کے ڈائریکٹر کی Term Post کے Against اس کو Permanently ابزورو کر لیا گیا .اس PIL میں اسکے appointment اور absorption دونوں کو غیر قانونی بتایا گیا ہے اور اس عہدے پر سے 2005 میں اسکی گرفتاری کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور حمید الله بھٹ کو ترنت برطرف کرنے کی مانگ کی گئی ہے .جس کی کئی سماعتیں ہو چکی ہیں پہلے یہ جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس سنجیو کے کھنا کی پنچ کے سامنے تھی اور انکے سپریم کورٹ چلے جانے کی وجہ سے اب دوسری دو رکنی بنچ کے سامنے ہے اور وکیل جناب ارجن ہرکولی (Shri Arjun Harkauli) ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد حمید الله بھٹ کی قسمت کا ستارہ ڈوبنے والا ہے .

                                                                                                                                                      (سمیع الدین)
                                                                                                                                                      رابطہ عامہ سیل
نوٹ :اس بارے میں اور کچھ معلوم کرنا ہو تو پٹنہ میں پروفیسر لطف الرحمن صاحب کو 09835064584 پر یا دہلی میں جناب جاوید رحمانی کو 09210293686 پر فون کریں .
اور دستاویزوں کے معائنے کیلئے www.authorsanjuman.wordpress.com    اور www.cfess.blogspot.com  پر لاگ ان کریں.

Monday, September 19, 2011



بھٹ کی بر طرفی سے متعلق PIL کی اگلی سماعت 4 نومبر 2011 کو

اردو کونسل کے ڈائریکٹر حمید الله بھٹ کی بر طرفی سے متعلق  PIL کی سماعت14 ستمبر 2011 کو  جسٹس دیپک مشرا اور سنجیو کے کھنا کی بنچ کے سامنے تھی .اس میں جناب جاوید رحمانی اور پروفیسر لطف الرحمن نے بھٹ کی اہلیت پر سوالیہ نشان قائم کیا اور اس  سے متعلق بد عنوانی کے معاملات کا حوالہ دیکر بھٹ کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے ،اس معاملے کے وکیل  جناب ارجن حرکاولی ہیں اور عدالت عالیہ نے اس مسئلے پر حکومت ہند ،وزارت براے فروغ انسانی وسائل اور قومی اردو کونسل سے جواب طلب کیا تھااور سماعت کی تاریخ پہلے 20 اپریل 2011 اور پھر 13 جولائی 2011 اور پھر14 ستمبر  2011 کو رکھی تھی  .جس پر حکومت نے اب جواب دیا ہے  اور  قومی اردو کونسل نےپہلے ہی  نہایت مبہم سا جواب داخل کیا تھا  جس میں غیر متعلق باتوں کی بھرمار سے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے .حکومت ہند کےجواب میں بھی کوئی خاص بات نہیں بلکہ بھٹ کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اسے بچانے کی کوئی خاص کوشش نہیں کی گئی ہے . اس موقعے پر عدالت میں  جناب جاوید رحمانی موجود تھے اور انکے وکیل شری ارجن حرکاولی اورحکومت کے وکیل اور انکے ساتھ ملزم کے وکیل بھی موجود تھے   ،اگلی سماعت میں بھٹ کی عدالت کی طرف سے بر طرفی متوقع ہے کیوں کہ عدالت میںبھٹ  کے اور قومی اردو کونسل کے وکیل نے جو جوابات داخل کئے ہیں وہ انتہائی غلط اور گمراہ کن ہیں اور حکومت کے وکیل نے بھی اپنے جواب میں اسے بچانے کی کوشش نہیں کی ہے  . واضح رہے کہ  2005 میں ستمبر میں  بھٹ کو سی بی آئ(CBI) نے گرفتار کیا تھااور یہ اپنے سیاسی آقاؤں کی مدد سے اپریل   2009میں واپس آگیا جبکہ CBI میں اسکے خلاف مقدمہ ابھی چل ہی رہا ہے اور ایک ڈیپارٹمنٹل انکوائری بھی اسکے خلاف چل رہی ہے اور اب جناب جاوید رحمانی اور پروفیسر لطف الرحمن کی   PIL اسکا خاتمہ بالخیر کرنے کیلئے آ گئی ہے

Thursday, July 14, 2011

بھٹ کی بر طرفی کا فیصلہ 14 ستمبر 2011 تک ٹلا(Next hearing on the PIL regarding removal of Bhat from NCPUL on 14 September 2011)


بھٹ کی بر طرفی کا فیصلہ 14  ستمبر 2011 تک ٹلا
اردو کونسل کے ڈائریکٹر حمید الله بھٹ کی بر طرفی سے متعلق  PIL کی سماعت آج جسٹس دیپک مشرا اور سنجیو کے کھنا کی بنچ کے سامنے تھی .اس میں جناب جاوید رحمانی اور پروفیسر لطف الرحمن نے بھٹ کی اہلیت پر سوالیہ نشان قائم کیا اور اس  سے متعلق بد عنوانی کے معاملات کا حوالہ دیکر بھٹ کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے ،اس معاملے کے وکیل  جناب ارجن حرکاولی ہیں اور عدالت عالیہ نے اس مسئلے پر حکومت ہند ،وزارت براے فروغ انسانی وسائل اور قومی اردو کونسل سے جواب طلب کیا تھااور سماعت کی تاریخ پہلے 20 اپریل 2011 اور پھر 13 جولائی 2011 کو رکھی تھی  .جس پر حکومت اور وزارت نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا جبکہ قومی اردو کونسل نے کل نہایت مبہم سا جواب داخل کیا جس میں غیر متعلق باتوں کی بھرمار سے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے .حکومت ہند کے وکیل وہاں موجود تھے.جنکو  عدالت نے ابھی تک جواب نہ داخل کرنے پر پھٹکارا اور چار ہفتے کے اندرہر حال میں  جواب داخل کرنے کا حکم دیا ،اور اگلی سماعت 14 ستمبر 2011 کو رکھی ،واضح رہے کہ اس موقعے پر عدالت میں ملزم حمید الله بھٹ اور جناب جاوید رحمانی بھی موجود تھے ،اگلی سماعت میں بھٹ کی عدالت کی طرف سے بر طرفی متوقع ہے کیوں کہ عدالت میںبھٹ کے اور قومی اردو کونسل کے وکیل نے جو جوابات داخل کئے ہیں وہ انتہائی غلط اور گمراہ کن ہیں واضح رہے کہ  2005 میں ستمبر میں ہی بھٹ کو سی بی آئ(CBI) نے گرفتار کیا تھا جب لکھنئو میں اردو کونسل کا میلہ چل رہا تھا اس ستبمبر میں جب بھٹ کی بحالی کو چیلنج کرنے والی  PIL کی سماعت ہے اس موقعے پر اردو کونسل کا کشمیر میں میلہ چل رہا ہوگا .شاید تاریخ اپنے آپ کو دوہرانے والی ہے اور اردو کا ایک بڑا ادارہ بد عنوانی کے داغ سے نجات پانے والا ہے ،

Saturday, April 23, 2011

भट्ट की बरतरफी से मोतालिकPIL की अगली समाअत13 जूलाई2011 को


Hkê dh cjrjQh ds loky ij ifCyd b.VjjsLV fyfVxs'ku ¼PIL½ dh lekvr vkt

20 vizhy 2011] ubZ fnYYkh gehnqYYkkg Hkê dh cjrjQh ds loky ij fnYyh gkbZdksVZ esa nkf[ky ifCyd baVjjsLV fyfVxs'ku ¼PIL½ dh lekvr vkt gksxhA ;g PIL tukc tkosn jgekuh vkSj izks- yqRQqjZgeku dh gS ftl ij 9 Qjojh 2011 dks fnYYkh gkbZ dksVZ us uksfVl tkjh djds gqqdqer ls tokc ryc fd;k Fkk vkSj lekvr dh rkjh[k 20 vizSy 2011 eqd+jZj dh FkhA oktg jgs fd Hkê dks flrEcj 2005 esa lh-ch-vkbZ us fxjQ~rkj fd;k Fkk tc og d+kSeh mnZw dkSafly dk Mk;jsDVj FkkA bl fxjQ~rkjh ds ckn mls bl vksgns ls cjrjQ dj fn;k x;k FkkA exj 28 vizhy 2009 dks mlus iSls vkSj vius fl;klh ,izksp (Approach) ds cwrs ij bl vksgns ij viuh cgkyh djokyh FkhA tcfd lh-ch-vkbZ ¼CBI½ eas blds f[kykQ Case vHkh rd py jgk gSA vkSj ,d fMikVZeaasVy bUDok;jh Hkh bl ds f[kykQ isfUMax esa gSA vr% tkosn jgekuh us mldh bl vksgns ij cgkyh dh l[Rk ekst+EEkr dh Fkh fQj izks- yqRQqjZeku] izks- 'kehe gUQh] lS;n 'kgkcqn~nhu] tukc xkSgj jt+k] eksgrjek 'kcue gk'keh] MkW- t+Q:y bLyke [kk¡ vkSj nwljh dbZ vge 'kf[l;rksa us bldh cgkyh dks xSj vkbZuh crkrs gq, ot+kjr cjk, Qjksx bUlkuh olk;y ¼ekuo lalk/ku fodkl eUrzky;½ ls eqrkyck fd;k fd bl dks tYn ls tYn cjrjQ fd;k tk, vkSj bl dh cgkyh dh eq[kkfyQr djrs gq, izks- 'kehe gUQh] Jh xkSjg jt+k] vkSj eksgrjek 'kcue gk'keh us d+kSeh mnZw dkSfmUly dh reke desfV;ksa ls bLrQk Hkh ns fn;k Fkk exj ot+kjr cjk, Qjksx bUlkuh olk;y ¼ekuo lalk/ku fodkl eUrzky;½ us vius bl x+yr QSlys ij ut+jslkuh dh tger xokjk ugha dh vkSj iwjh mnZw nqfu;k bl dh ekslyly eq[kkfyQr djrh jgh ;gk¡ rd fd mnwZ bnkjksa us gehnqYykg Hkê dk lekth ckbZdkWV Hkh fd;kA 27 tqykbZ 2009 dks bl elys ij nks ntZu lkalnksa us [kr fy[kdj dfiy flCcy ls eksrkyck fd;k fd mnwZ okyksa ds tt+ckr dk fygkt+ djrs gq, bl csbEkku 'k[Lk dks rqjUr~ dkSeh mnwZ dkSfmUly ds Mk;jsDVj ds vksgns ls cjrjQ djsaA exj tukc flCcy ds nQ~rj ds dqN fcdkÅ DydkZsa dh cnkSyr ;g 'k[l ml txg MVk jgk vkSj iwjk mnwZ eqvk'kjk ekslyly bUlkQ dk rd+kt+k djrk jgkA ftl dh rQlhy www.authorsanjuman.wordpress.com  vkSj www.cfess.blogspot.com ij ns[kh tk ldrh gSA fcyvkf[kj Qjojh 2011 esa tukc tkosn jgekuh vkSj izks- yqRQjZgeku ¼EksEcj d+kSeh mnwZ dkSfmUly½ us fnYYkh gkbZ dksVZ esa tufgr ;kfpdk ¼PIL½ dh vjt+h nkf[ky dh ftl esa dgk x;k gS fd gqdqer&,&fgUn esa Mk;jsDVj dh iksLV VeZ iksLV gS ftl dk eryc ;g gksrk gS fd ,d 'k[l 3 lky ;k T;knk ls T;knk ik¡p lky rd Mk;jsDVj ds vksgns ij jg ldrk gSA exj bl 'k[l us 13 lky ls d+kSeh mnwZ dkSfmUly ds Mk;jsDVj ds vksgns ij dCt+k dj j[kk gS vkSj bl ij flre ;g fd otkjr cjk, Qjksx+ bUlkuh olk;y dh gh ,d desVh ¼Goyal Committee½ us viuh fjiksVZ esa fy[kk fd tc bls Mk;jsDVj cuk;k x;k] ml oDr Hkh ;g bl vksgns ds fy, mfpr ;ksX;rk ugha j[krk Fkk vkSj bldk bUr[kkc xyr rjhds ls fd;k x;k FkkA bl ds ckotwn ekuo lalk/ku fodkl eUrzky; us bldks bl vksgns ls ugha gVk;k vkSj bl ij Hkh flre ;g fd blh vksgns ij ls CBI us bldks fxjQ~rkj djds cjrjQ fd;k Fkk vkSj blds f[kykQ og eqdnek vHkh rd py jgk gS vkSj fMikVZesaVy bUDok;jh Hkh isafMax esa gS bl lcds ckotwn bldks bl vksgns ij cgky djuk u flQZ xSj ,[kykdh gS cfYd ljklj xSj vkbZuh Hkh gSA bl PIL esa ;g Hkh crk;k x;k gS fd ;g cnmUkoku ¼Hkz"V½ 'k[l blls igys Hkh ftu ftu vksgnksa ij jgk gj txg blds f[kykQ cnmuokuh dk ekeyk lkeus vk;k vkSj blds nLrkosth lcwr Hkh is'k fd;s x, gSaA pqukUpg vnkyr vkfy;k us 9 Qjojh 2011 dks uksfVl tkjh djds gqdqer&,&fgUn ls 20 vizhy 2011 rd tokc ryc fd;k Fkk vkSj 20 vizhy dks lekvr dh rkjh[k eqdjZj dhA nwljh rjQ bl eDdkj 'k[l us cks[kykgV esa 12 Qjojh 2011 dks tukc tkosn jgekuh ls ,d fefVax esa lkSnsckth djuh pkgh vkSj bl dksf'k'k esa ukdke gksus ij mu ij geyk fd;k vkSj mUgsa tku ls ekjus dh /kedh Hkh nh ftldh fjiksVZ ml okjnkr ds rqjUr~ ckn lfjrk fogkj iqfyl LVs'ku esa njt dh xbZ vkSj vnkyr dks Hkh voxr djok x;kA exj ;g 'k[l viuh cks[kykgV esa ekslyly mu ij ncko cukus dh dksf'k'k djrk jgk vkSj mUgsa /kefd;k¡ nsrk jgkA bl dh bu gjdrkssa ls bldh eqtfjekuk tsgfu;r lkQ t+kfgj gks tkrh gSA vkt dh lekvr ls iwjh mnwZ nqfu;k dh cgqr lh mEehnsa okfcLrk gS vkSj ;dhu gS fd vnkyr gqdqer ls mnwZ okyksa ds lkFk blds bl fdle ds lkSrsys joS;s ij u flQZ ;g fd tokc ryc djsxh cfYd mnwZ okyksa dks eqYd ds 'kgjh dh gSfl;r ls mu ds gd+wd fnyok,xh vkSj bl cnmuoku 'k[l dks blds vUtke rd igqapk,xh rkfd ;g bnkjk ¼tks gqdqer&,&fgUn dk mnwZ ds Qjksx+ ds fy, d+k;e fd;k x;k lcls cM+k bnkjk gS½ cckZn gksus ls cp tk,A

jkCrk&,&vkEek lsy



भट्ट की बरतरफी से मोतालिकPIL की अगली समाअत13  जूलाई2011  को 
भट्ट की बरतरफी से मोतालिकPIL की अगली समाअत13  जूलाई2011 को होगी ,यहPIL  श्री जावेद रहमानी और प्रोफ़ेसर लुतफुर रहमान की तरफ से अधिवक्ता श्री अर्जुन हर्काव्ली ने दाखिल की है जिसकी समाअत20जूलाई २०११ को चीफ जस्टिस श्री दीपक मिश्र और श्री संजीव खन्ना की बेंच के सामने थी ,कोर्ट ने भारत सरकार ,मानव संसाधन विकास मंत्रालय और कौमी उर्दू कौंसिल से जवाब तलब किया था ,जिस पर सिर्फ  कौमी उर्दू कौंसिल ने जवाब दाखिल किया ,इसPIL में कौमी उर्दू कौंसिल के डाइरेक्टर हमीदुल्लाह भट्ट की योग्यता पर स्वाल्या निशान कायम किया गया है और उनपर लगे करप्शन के चार्जों का हवाला देकर उन्हें हटाने की मांग की गई